Qalb e Pinhaan By Hamna Saboor Amir
Instagram User I’d : hamnasabooramir
📍Writer Name in English and Urdu :
Hamna Saboor Amir
حمنہ صبور عامر
📍Novel Name in English and Urdu :
Qalb e Pinhaan
قلبِ پنہاں
Novel theme :
Marriage of convenience
Emergency Nikaah
Childhood Nikaah
Novel Troupes :
Power couple
Strangers to Lovers
Estranged spouses
Novel Status : Ongoing
Episodes timeline : Once A month
1st Episode words : 19359 words
📍Story Theme :
کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو یا تو آپ کو مضبوط بنا دیتے ہیں یا پھر آپ سے آپ کی ساری قوت کھینچ لے جاتے ہیں۔
کچھ رشتے جو وقت کی دھول میں کھو جاتے ہیں ، مگر دل کی گہرائی میں زندہ رہتے ہیں۔
خامشی میں چھپی ایک ایسی پکار، جو صرف ایک دل ہی سن سکتا ہے۔
محبت، راز، اور تقدیر کا چکر وہ سفر جو ہر لمحے کو معنی بخشتا ہے۔
📍Story Status: Ongoing
📍Novel Troupes :
Marriage of convenience
Forbidden Love
Estranged Spouses
📍Story description ( in urdu) :
کہانی جنم لیتی ہے اسلام آباد کے پر شکوہ شہر میں ، سڈنی کی پر ہجوم گلیوں میں اور دیر کی برف سے ڈھکی ہوئی وادیوں میں۔ یہ کہانی ہے انتظار کی ، ایک خاموش بدلے کی اور ایک خواب کی ۔ وہ انتظار جو جاگتی آنکھوں اور قفل لگی زبان کے ساتھ کیا گیا۔ کہانی ہے بدلے کی جو عرصے سے سینے میں پنپتا رہا۔ کہانی ہے اس خواب کی جن کی جائے پناہ نم آنکھیں تھیں۔
📍Instagram ID (with same spellings): hamnasabooramir
Here I am sharing two promotional scenes. you can use whatever you like. HERE are the scenes.
SCENE NO 1:
”آپا! اعظم انکل سے کہہ دیں گاڑی نکال لیں۔ میں آرہی ہوں!“اس نے واپس ٹیبل کی طرف مڑتے ہوئے کہا تو زری آپا اثبات میں سر ہلاتے ہوئے چلی گئیں۔ وہ اپنی چیزیں سمیٹنے کے لئے جھکی تو پہلی بار اس کی نظر ٹیبل پر پڑے سیاہ گلابوں کے بوکے پر پڑی۔ وہ حیرت زدہ چہرے کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بوکے کو ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگی۔سیاہ گلابوں کے اس بوکے نے بری طرح اس کی توجہ کھینچی تھی۔ وہ ہمیشہ سے سفید رنگ کی دیوانی تھی لیکن آج ان سیاہ گلابوں کو دیکھ کر اس کو سفید گلابوں کی دلکشی پر شبہ ہوا۔ وہ گلاب حیران کن حد تک حسین تھے۔ وہ ان کو سونگھ کر ہلکا سا مسکرائی۔ لیکن ایک منٹ؟ وہ یہاں کیا کررہے تھے؟
اس کے سفید لاؤنج میں یہ سیاہ گلاب اجنبی تھے۔ وہ زری آپا سے اس کے بارے میں پوچھنے کے لئے اٹھتی کہ اس کی نظر اس انویلپ پر پڑی جو بوکے کے ساتھ ٹیبل پر پڑا تھا۔ اس نے بوکے رکھ کر اس انویلپ کو اٹھا لیا۔ اس پر کوئی پتا نہیں درج تھا۔وہ صفا چٹ کاغذ تھا۔ اس نے انویلپ کو کھولا تو اندر ایک کارڈ تھا ۔ سیاہ رنگ کا کارڈ جس پر سفید پین سے لکھا گیا تھا۔
“You are all I ever crave for.”
کارڈ پر لکھے گئے الفاظ پڑھ کر وہ ششدر رہ گئی۔ایک اجنبی گلدستہ، جس پر کوئی پتہ نہیں درج تھا اور اس کے اندر اس قسم کے کارڈ نے اس کو حیران کردیا تھا۔
_________________________________________________________________________
SCENE NO 2:
کرسی پر بیٹھیں مس دوپٹہ اور میز کے پاس کھڑےمسٹر فیمینسٹ!
ماحور نے سر درد سے عاجز آکر سر میز پر رکھ دیا۔ اس نے بازو میز پر رکھ کر ان میں سر دیا ہوا تھا۔ اس درد سے اس کی اب بس ہو گئی تھی۔
صالح نے اس کا جھکا سر دیکھا تو جھک کر میز سے اپنا بیگ اٹھا لیا۔ بیگ میں سے ایک چیز نکالی اور اس کے سر کے نیچے دیے ہوئے بازوؤں کے قریب کی۔ ماحور نے محسوس ہونے والی ہلکی سی آہٹ پر سر اٹھایاتو صالح جھک کر اس کے سامنے کچھ رکھ رہا تھا۔ اس نے میز سے بازو ہٹا ئےاور نظر جھکا کر دیکھا تو وہ ٹیبلٹ کی ڈبی تھی۔
’’کھالیں! درد میں افاقہ ہوگا۔‘‘ گلا کھنکھارتے ہوئےوہ نظر جھکا کر کہہ گیا۔ ماحور ساکت رہ گئی ۔ اس کو کیسے معلوم ہوا کہ میرے سر میں درد ہے؟وہ ششدر سی اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ اس نے دوبارہ نظر جھکا کر ڈبی کو دیکھا۔وہ واقعی سر درد کی دوا تھی۔
ماحور نے پھرنظر اٹھا کر اس کو دیکھا تو وہ کندھے پر بیگ ڈالتے ہوئے واپس مڑ رہا تھا۔اس سے پہلے کہ اپنی حیرانی سے باہر نکلتے ہوئے وہ اس کو شکریہ کہتی ، وہ دور جا چکا تھا۔ وہ تب تک اس کی پشت دیکھتی رہی جب تک وہ لائبریری کا داخلی دروازہ پار کر گیا۔ اس نے ہاتھ میں ڈبی پکڑی اور اس میں سے دوا نکال پانی کے ساتھ نگل لی۔ دوبارہ سے میز پر دکھتا سر رکھتے ہوئے اس کے ذہن میں بس ایک ہی بات گردش کر رہی تھی۔
آخر اس کو کیسے پتا چلا؟
______________________________________________________________________
Contact my on my social media (instagram dm) if you want to know anything.
JAZAKALLAH!