CHOR CHORI SE GYA BY UMEMA MUKARRAM

“بھیا جی۔۔چلیں نہ کہیں بڑا ہاتھ مارتے ہیں ۔۔۔ یہ کڑوی ہوٹل کی دال کھا کھا کر نہ اب میرا پیٹ بھی خراب ہوگیا ہے۔”
بلال ارف بلو منہ بنا کر بولا تین دن سے وہ لوگ ہوٹل کی چنے کی دال کھارہے تھے۔۔۔اور بلو جو کھانے کا شوقین تھا ۔۔ہوٹل پر دال لینے جاتے وقت جو وہاں مزے مزے کے کھانے کی خوشبو سونگھتا تھا۔۔وہ اپنے نئے باس کو گالیوں سے نوازتا تھا جو چار دن سے ایک لڑکی کے خوابوں میں کھوۓ اسے تلاشتے رہتا تھا اور اپنا کام چھوڑ کر بیٹھا تھا۔۔۔
” ارے چھوڑ بلو جب سے اسنے وہ کنچی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھا ہے اس کا دماغ چل گیا ہے۔۔۔”
یہ ریحان ارف ہانی تھا۔۔۔ جو اسی بات پر اب تک تپا تھا ۔۔۔
کے دومہینے پہلے پولیس سے بچانے کی وجہ سے ناتو اس انسان کو اپنے ساتھ رکھ لیا تھا بلکہ اپنا باس بھی بنا لیا تھا۔۔۔۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

CHOR CHORI SE GYA COMPLETE

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *