MUHABBAT KA SARAB BY ANA ILYAS

ميری سمجھ سے باہر ہے کہ تمہیں کب سمجھ آۓ گی کہ محبتيں يوں سرراہ نہيں ہو جاتیں اور يہ فيس بک کی محبتيں۔۔۔ميرے خدا کيا تم اتنی ہی بے وقوف ہو کہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہو کہ يہ شخص تمہيں دھوکہ دے رہا ہے۔ يہ سب سراب ہے ہنيہ تم کيوں کسی دوسرے کو اجازت دے رہی ہو کہ وہ تمہیں جيسے چاہے استعمال کرے کيا تم اتنی ہی ارزاں ہو” ورشہ آج پھر سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی مگر ہميشہ کی طرح اسے يہ سب بے سود لگ رہا تھا۔ کيونکہ وہ بے وقوف اپنی عزت داؤ پر لگانے پہ تلی ہوئ تھی۔
“تمہيں پرابلم کيا ہے اس سے۔۔۔وہ جو بھی ہے جيسا بھی ہے تمہین تو کوئ تکليف نہيں پہنچا رہا نا۔” ہنيہ کے نوٹس لکھتے ہاتھ ساکت ہوۓ پھر ورشہ کے خاموش ہونے پر وہ سر اٹھا کر ناگواری سے بولی۔
“واقعی تم صحيح کہہ رہی ہو مجھے تو کوئ تکليف وہ نہيں پہنچا رہا۔ مگر تم يہ بھول رہی ہو ہم وہ دوست ہيں جنہيں ہر کوئ يک جان دو قالب کے نام سے جانتا ہے۔ جن کا سونا، جاگنا، کھانا پينا ايک دوسرے کے بغير نہيں ہوتا جو ايک دوسرے کی تکليف پر روتی ہيں اور ايک دوسرے کی ہنسی ميں ہنستی ہيں۔ مگر تم صحيح کہہ رہی ہو کہ مجھے کيا تکليف ہے تمہيں کوئ بھی گزند پہنچا جاۓ، تمہيں کو‏ئ بھی درد کے خار چبھا دے مجھے کيا تکليف ہے۔۔۔مجھے تو کوئ تکليف نہيں” ورشہ کو اسکے الفاظ سے زيادہ اسکا لہجہ درد اور تکليف سے دوچار کرگيا تھا۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

DOWNLOAD HERE

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *