MUSAFIR LOUT AYE BY SUMAIRA SHAREEF TOOR

’’نہیں سالک …….! آپ نے صرف اپنی نفرت کا اظہار کیا تھا مگر مجھ سے سب کچھ چھین لیا۔ وہ محبت جو بچپن سے اپنے دل میں سینچتی چلی آئی تھی آپ کی نفرت اسے کھا گئی۔ میرا بس نہیں چلتا تھا کہ میں کیا کر ڈالتی۔ ان دنوں صرف ایک ہی ضد تھی کہ مجھے طلاق لینی ہے۔ پھر آپ بھی مان گئے۔ دل میں ایک خوش فہمی تھی کہ شاید آپ سختی سے رد کر دیں اس تقاضے کو مگر……‘‘ چپ ہو گئی۔ سالک نے اسے کندھوں سے تھام لیا …….لرزتا وجود اور لرزنے لگا۔ اس نے خود میں بھینچ لیا۔
’’اسوہ……‘‘ سالک کے لب کپکپائے تھے صرف۔
’’آپ چلے گئے۔ میں لمحہ لمحہ مری، ہر ایک کی نظر میں میں مجرم تھی۔ میں گنہگار تھی۔ بابا جانی نے کبھی بلایا نہیں۔ امی جان نے کبھی پاس بٹھا کر کوئی بات نہیں کی۔ اگر بی بی جان نہ ہوتیں تو یہ آٹھ سال مجھے مار دیتے۔ جینے کی خواہش تو جیسے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ آپ کا یوں گمنام ہو جانا مزید حوصلے پست کر گیا۔ میری جو ضد تھی کہ صرف طلاق لینی ہے ، وہ جیسے کہیں مٹ گئی تھی ۔ چند ماہ سے ایک خیال ، مسلسل آ رہا تھا کہ شاید آپ میری طرف سے کسی پیش رفت کے منتظر ہوں۔ بی بی جان کا ہارٹ اٹیک تو صرف بہانہ تھا ، میں ضبط نہ کر سکی۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD BUTTON:

MUSAFIR LOUT AYE COMPLETE

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *