rag e jaan hai wo by ana ilyas

“بابا جی! دعا ہی کر ديا کرو کبھی۔۔۔” وہ جو روز يونيورسٹی کے باہر بيٹھے فقير کو ديکھتی تھی۔
جو کالا چشمہ لگاۓ۔۔سبز رنگ کا چولہ پہنے، ہاتھوں ميں ڈھيروں انگوٹھياں ہوتيں اور اسی طرح گلے ميں ڈھيروں مالائيں لٹکاۓ۔ روزانہ صبح انکے يونيورسٹی جانے سے پہلے وہاں موجود ہوتا اور شام مين انکی واپسی تک وہ وہيں موجود رہتا۔
سفيد بالوں کی لمبی لمبی لٹيں منہ پر ڈالے ميلے کچيلے حليے والا بابا نجانے فاتينا کو اتنا اٹريکٹ کيوں کرتاتھا۔
مزنی اسکی دوست ہميشہ اسکی ان عجيب و غريب حرکتوں پر عاجز آ جاتی تھی۔ ابھی يونيورسٹی شروع ہوتے ہی پہلے سمسٹر مين انکی دوستی ہوئ تھی۔
لہذا وہ فاتينا کے بارے ميں بہت زيادہ نہيں جانتی تھی مگر اسے يہ نٹ کھٹ سی زندگی کو بھرپور طريقے سے جينے والی فاتينا بہت پسند آئ تھی۔
اسی لئيۓ اس نے دوستی ميں پہل کرنے ميں دير نہيں لگائ تھی۔
وہ نيچے بيٹھی آج اس فقير سے مخاطب ہوئ۔
“چلی جا بھاگ جا ورنہ بھسم ہوجاۓ گی” وہ فقير فاتينا کے قريب بيٹھنے پر سختی سے چلايا۔
“لو ايسے کيسے بھسم ہو جاؤں گی۔۔۔مجھے بس يہ بتا دو تم فقيروں جيسی صدائيں بھی نہيں لگاتے بس لوگ جو تمہارے کاسے ميں ڈال ديں تو ڈال ديں ورنہ تمہيں کوئ پرواہ نہيں۔۔۔ايسے کيوں۔۔۔” فاتينا تو لگتا تھا آج اس کا انٹرويو لينے بيثھی ہے۔
“فاتی بس کرو کيوں اس بيچارے کو پريشان کر رہی ہو” مزنی اسے ٹوکتے ہوۓ بولی۔
“بابا جی مشکوک لگتے ہو” اسکی بات پر نہ صرف بابا بلکہ مزنی کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ گيا۔
وہ ايسی ہی تھی جو منہ ميں آتا بول ديتی۔۔جو محسوس کرتی کہہ ديتی
“دفعہ ہو جا يہاں سے ناہنجار لڑکی۔۔۔۔فقيروں کو چھيڑنے کا انجام بہت برا ہوتا ہے بھاگ جا” بابا اشتعال ميں آکر پاس پڑا پتھر اٹھا کر غصے سے بولا۔
“اچھااچھا جاتی ہوں پر اتنا بتا دو۔۔۔کالا چشمہ پہنا کس کی فرمايش تے” وہ جاتے جاتے بھی اسے تنگ کرنے سے نہ چوکی۔
اس سے پہلے کے وہ فقير پاس پڑا پتھر واقعی اسک جانب گھماتا وہ کھلکھاتے ہوۓ وہاں سے بھاگ کھڑی ہو‏ئ۔
“تمہيں کيا ملا اس بيچارے کو تا‎ؤ دلا کر” مزنی نے اکتاہٹ بھرے لہجے مين پوچھا۔
“پتہ نہيں کيوں بس يہ بابا بڑا کيوٹ لگتا ہے” فاتينا ک بات پر مزنی کو اسکی دماغی حالت پر شک ہوا۔
“اتنا ميلا کچيلا فقير اور کيوٹ۔۔۔بيٹا يہ تمہيں ہی صرف کيوٹ لگ سکتا ہے کيونکہ تم اس دنيا کی سب سے زيادہ کھسکی ہوئ لڑکی ہو” مزنی نے تاسف سے سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“صحيح کہہ رہی ہو۔” اس نے شد و مد سے اسکی ہاں مين ہاں ملائ ۔جيسے وہ کسی اور کی بات کر رہی ہو۔
وہ دونوں اس وقت پنجاب يونيورسٹی کے ماس کام ڈيپارٹمنٹ کی جانب جا رہی تھیں۔ جس کے دروازے کے باہر وہ فقير کچھ دنوں سے فاتينا کی نظروں ميں آيا تھا۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

رگِ جاں ہے وہ

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *