tera aitbar chahye by ana ilyas

“تم پليز امی ابا کو کچھ مت بتانا” اس نے ہچکچاتے ہوۓ عزہ سے وعدہ ليا۔
“بے فکر رہو” اب کی بار عزہ کو خطرے کی گھنٹياں سنائ ديں۔
“عزہ ميں۔۔ميرا مطلب ہے کہ مجھے اپنے۔۔۔ميں اپنے کلاس فيلو ميں انٹرسٹڈ ہوں” اس نے گھبراتے ہوۓ بتايا۔ جو شک عزہ کو گھيرے ہوۓ تھا وہ سچ ثابت ہوا تھا۔
“نام کيا ہے” عزہ نے سنجيدگی سے اسے ديکھتے پوچھا۔
جس کا چہرہ ايک اجنبی کے ذکر پر گلنار ہو رہا تھا۔
“زبير، فيصل آباد کا رہنے والا ہے ،عزہ وہ بہت امير ہے يہاں ہاسٹل ميں رہتا ہے۔ يار اس نے اس سب کی پہل کی مجھے تو پتہ ہی نہيں تھا وہ يونيورسٹی کے فرسٹ ڈے سے اب تک مجھ سے محبت کرتا آيا تھا۔ ميں نے اسے بہت منع کيا اس سب کے ليۓ، بہت روڈ بھی ہوئ مگر وہ پھر بھی مجھ سے بہت محبت کرتا ہے” وفا جوش سے اسے ايک ايسی کہانی سنا رہی تھی جسے عزہ سننا بھی نہيں چاہتی تھی ۔
“وفا کيا تمہيں نہيں پتہ ايسی محبتيں سواۓ ٹائم پاس کے اور کچھ نہيں ہوتيں۔ مجھے تو سمجھ نہيں آ رہا کہ تم اتنی بے وقوف کيسے ہو سکتی ہو۔ کسی نے دو محبت کے سچے جھوٹے لفظ بولے اور تم ان پر ايمان لے آئيں” عزہ نے تاسف بھرے انداز ميں اسے ديکھا۔
“عزہ وہ غلط انسان نہيں ہے اور نہ ٹائم پاس کر رہا ہے وہ واقعی ميں مجھ سے بہت محبت کرتا ہے” وفا نے اسکی بات جھٹلاتے ہوۓ کہا۔
“اتنا ہی سچا ہے تو اس سے کہو سيدھے راستے سے تمہارے ليۓ رشتہ بھيجے يہ کالجوں اور يونيورسٹيوں کی مجبتيں سواۓ ذلت اور رسوائ کے اور کچذ نہيں ہوتيں۔ تم بجاے اس حقيقت کو فبول کرنے کے اس کی حوصلہ افزائ کر رہی ہو” عزہ شديد صدمے سے بولی

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

tera aitbar chahye

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *