Zindan By Rumaisa Shehzadi Complete Novel

Complete Novel Psychological suspense

Zindan By Rumaisa Shehzadi Complete Novel

Genre: contemporary, social, suspense
Description ( in Urdu):
زندان میری تیسری تحریر ہے۔ کہنے کو تو یہ ایک ناول ہے مگر میرے لیے یہ ناول سے بڑھ کر رہے۔ دس بابوں پر مشتمل یہ کہانی آپ کو بتائے گی کہ کچھ کہانیاں کہانیوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔ کہانی میں کئی کردار ہیں اور ہر کردار کی اپنی قید ہے۔ کہانی میں ایک پہیلی ہے، اس میں خون بھی ہے بدلہ بھی ہے، محبت بھی ہے جنون بھی ہے مگر یہ ایک تالے کی طرح ہے۔ اس کی مختلف چابیاں ہیں جو اپنے اپنے وقت پر لگیں گی اور کہانی پڑھنے والے پر عیاں ہو جائے گی یہاں تک کہ فقط ایک بچہ بچے گی اور کہانی قاری پر مکمل کھل جائے گی۔ امید ہے آپ زندان سے بہت کچھ سیکھیں گے اور سیکھ کر عمل کریں گے۔
….
اس کے باپ نے ہاتھ اپنے ساتھ بستر کی سطح پر رکھا۔ یہ اس کے بیٹھنے کا اشارہ تھا۔ اس نے جائے نماز تہہ کی اور اپنے باپ کے ساتھ آ بیٹھی۔ وہ مسکرائے
“کیا مانگ رہی تھی؟”
وہ بھی مسکرائی اور ٹانگیں سینے سے لگا لیں “پتہ نہیں ۔۔ اللّٰہ سے کہہ رہی تھی کہ وہ مجھے بھی عروج دے ایک دن ۔۔ اس نے مجھے اتنا اچھا ہنر دیا ہے، میں اسے کہہ رہی تھی کہ وہ مجھے بھی بہت سے فالوورز تھے۔ لوگ میرے ہنر کو بھی سراہیں مجھے بھی جانیں اور مجھے بھی چاہیں، اللّٰہ تو سب دیتا ہے نا اللّٰہ سے سب مانگ سکتے ہیں بنا کسی ججمنٹ کے ڈر کے” وہ بڑی نرمی سے بتا رہی تھی
اس کا باپ مسکرایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا “اللّٰہ تمھارے ہنر میں خودی پیدا کرے” پھر سانس خارج کی “نینا ۔۔ بیٹے یہ جو لوگ ہیں نا یہ بہتے دریا میں ہاتھ دھوتے ہیں اور اگر وہ دریا رک جائے تو وہ اپنا رخ بدل لیتے ہیں۔ لوگوں کے پیچھے نہیں بھاگتے، تھک جاؤ گی”
وہ مسکرائی “میں تو اللّٰہ سے فالوورز مانگ رہی ہوں بابا، فالوورز یعنی لوگ میرے پیچھے آئیں۔ بابا میں ایک آرٹسٹ ہوں اور ہر آرٹسٹ کو سراہنے والے چاہنے والے چاہیئے ہوتے ہیں” اور خاموش ہوگئی
اس کا باپ اسی طرح مسکراتا رہا “تم بہت اچھی پینٹر ہو میری رگ جان! تمھیں چاہنے اور سراہنے والے کیوں چاہیئے؟ تم کیا ان کے لیے پینٹ کرتی ہو جو تمھیں ان کی رائے کی ضرورت ہے؟”
اس نے سانس خارج کی “بابا ۔۔ لوگوں کو پتہ نہیں چلے گا تو پھر میرے پینٹ کرنے کا کیا فائدہ؟ ہر آرٹسٹ لکھاری اور فنکار کو چاہنے والے چاہیئے ہوتے ہیں جنھیں ہم فالوورز کہتے ہیں، میں نے بس وہی مانگے ہیں” اور خاموش ہوگئی
اس کے ابا نے اپنا رخ ذرا سا ترچھا کیا “بیٹے دنیا جاننا شروع کردے نا تو پھر بہت فساد ہوتا ہے۔ سبھی لوگ آپ کو سراہتے نہیں ہیں، سبھی لوگ اچھے نہیں ہوتے”
سنینا نے ان کی بات پر سر ہلایا “میں بس یہ چاہتی ہوں کہ میں بہت آگے جاؤں ۔۔ بہت آگے سب سے آگے”
اس کے ابا ہنس دیے
“ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں”
Instagram handle: rumaisa_shehzadi_official

Click On this Link Below To Download novel:

Zindan By Romaisa Shehzaadi Complete-NC

📱 Download Our Android App

Read all novels offline, get notifications, and enjoy a better reading experience!

Download Now Our Android App

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *