Eid Wasal By Sadia Shehzad Eid Special

Complete Novel eid special Romantic

Eid Wasal By Sadia Shehzad Eid Special

Genre: romance, drama, social romance, contemporary romance, coming of an age.
Description:
یہ کہانی ہے دل کے رشتوں کی جو دِل سے نکل کر روح میں اُتر جاتے ہیں۔
اُس خون کی جو رگوں میں دوڑتا ہے لیکن وقت کے ساتھ سفید ہو جاتا ہے۔
رشتوں میں آئی دراڑ کی جو وقت کے ساتھ گہری ہو جاتی ہے۔
کہانی ہے ہجر کی، کہانی ہے وصل کی۔
کہانی ہے اس عید کی، جب ہجر تمام ہوا اور عید کے چاند کے ہمراہ لمحہ وصل نے بھی جنم لیا۔
Writer Instagram I’d: @writer.sadiakhan
وہ اپنے کمرے میں ٹہل رہی تھی، آج کئی سالوں بعد اُس نے ازمیر کے کہنے پر مہندی لگوائی تھی ورنہ وہ نہیں لگاتی تھی اور اب اُسے مہندی سے الجھن ہو رہی تھی لیکن اُسے فی الحال لگائے رکھنی تھی۔
یہ تو ایک عام بات ہے جب لڑکیاں مہندی لگاتی ہیں تو اُنہیں دنیا کے سارے کام اُسی وقت یاد آجا تے ہیں۔ اُسے بھی اب سب کچھ یاد آ رہا تھا اور سب سے زیادہ اُس کا کافی پینے کا دل کررہا تھا۔
وہ اُٹھی اور کچن میں آگئی کہ سامنے وہ کھڑا تھا۔ اُسے دیکھ کر پلٹا اور اندر آنے کا اشارہ کیا۔
”تم یہاں، کچھ چاہیے کیا؟“
”مجھے کافی پینی ہے بس وہی بنانے آئی ہوں۔“ آرام سے کچن میں موجود کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔
”تم اندر جاؤ، آرام کرو، یہ تمہاری کافی بن رہی ہے میں بس ابھی لے کر آتا ہوں۔“وہ جو پہلے سی ہی اُس کے لیے کافی بنا رہا تھا اُس کی بات سنتے ہوئے نرمی سے بولا۔ وہ سر خم کر کے اُٹھ گئی اور باہر لان میں موجود اپنے کین کے جھولے پر جا کر بیٹھ گئی۔
پانچ منٹ میں کافی تیار کر کے وہ وہیں لے آیا تھا کیوں کہ ہال میں موجود کھڑکی سے وہ اُسے یہاں بیٹھی نظر آگئی تھی۔
قریب آ کر اُس نے اُس کا کپ اُسے دیا جسے وہ شکریہ کہہ کر قبول کر گئی۔ وہ بھی پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
”تمہیں یاد ہے زِمل ایک رات تم یہیں بیٹھی ہوئی تھیں، اِسی جھولے پر اور تیز طوفانی بارش میں بھیگ رہی تھیں اور ایسے ہی تمہارے ہاتھ میں کافی کا کپ تھا اور تم پوری دنیا سے لاتعلق بنی، سب سے ناراض ہو کر یہیں بیٹھی ہوئی تھیں۔“ وہ بولتے بولتے رکا اور وہ اُس کے بولنے کا انتظار کرنے لگی۔
”اُس پل میں نے تمہیں بہت غور سے دیکھا تھا اور پھر میری نظر تم پر ٹھہر گئی تھی، اُس رات تمہارے ہر عمل نے مجھے توڑ دیا تھا، جب تم بھیگ رہی تھی مجھے وہ ٹھنڈی بوندیں خود پر محسوس ہو رہی تھیں ، پھر جب تم مجھ سے لڑ رہی تھیں مجھے لگا میں تمہیں کبھی منا نہیں پاؤں گا، پھر جب تم نے ٹوٹ کر مجھ سے کہا تو مجھے لگا میں تمہیں توڑ چکا ہوں اب جوڑ نہیں پاؤں گا اور آخر میں جب تم نے مجھے تھکن بھری نظروں سے دیکھا تو مجھے لگا میں تمہیں ہار چکا ہوں اب کچھ بھی ہو جائے تم نہیں مانو گی لیکن تم مان گئیں اور اب تم میرے سامنے بیٹھی ہو تو میں چاہتا ہوں تم میرے سامنے ہی رہو اگر تم دور ہوگی تو سمجھوں گا شاید میں نے ایک بار پھر تمہیں کھو دیا ہے۔“ وہ چپ ہو گیا تھا، اُس کی بات مکمل ہوگئی تھی، وہ اُسے دیکھنے لگا جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی پھر وہ مسکرائی اور کچھ کہنے لگی۔
”مجھے اندازہ نہیں تھا ازمیر امین کبھی مجھ سے یوں اظہارِ محبت بھی کریں گے، میں نے تو صرف آپ کا ساتھ مانگا تھا لیکن آپ تو میری عادتیں خراب کر رہے ہیں پھر بھی آپ یہ مت بھولیے گا کہ میں آپ کی اِن باتوں میں آ جاؤں گی کیوں کہ اب میں ایک پروفیشنل سائیکالوجسٹ ہوں، ذہن پڑھ سکتی ہوں تو آپ احتیاط کیجیے گا کہیں آپ کا جھوٹ میرے سامنے نا آجائے۔“ بظاہر سنجیدہ لہجے میں کہتے ہوئے، اپنی امڈتی ہوئی مسکراہٹ کو روکنے میں ناکام ہوتی زِمل نے یہ جملہ اُسے غصہ دلانے کے لیے بولا تھا لیکن مقابل اُس کے مذاق کو سمجھ گیا تھا اور اب وہ ہنس رہا تھا، دل کھول کر اور وہ اُس کی ہنسی کی گونج سن کر مسکرا رہی تھی۔
بلاشبہ یہ منظر مکمل تھا، وہ اُسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا

Click On this Link Below To Download novel:

Eid E Wasal By sadia Shehzad Complete-NC

📱 Download Our Android App

Read all novels offline, get notifications, and enjoy a better reading experience!

Download Now Our Android App

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *