GULABI RUT SURKH PHULON KI BY IQRA SAGHEER AHMAD

 

”تم! سب وہم سب خدشے و خوف ذہن سے نکال دو۔ میں نے ان کو سب بتا دیا تھا۔ کوئی بات نہیں چھپائی اور وہ خوش ہیں بلکہ….ممی کا اصرار ہے وہ تم سے بات کرنا چاہتی ہیں۔“

”کیوں؟“

”تاکہ تمہیں سمجھا سکیں کہ وہ تمہاری جیسی بہو کی ہی خواہشمند ہیں جو ان کا گھر سنبھال سکے۔ اچھے اچھے کھانے کھلا سکے اور…. اور ان کے پھوہڑ‘ بدسلیقہ و لاپروا بیٹے کو بھی سنبھال سکے۔“ وہ ہنستے ہوئے بولا تورابیکا سرجھکا کر رہ گئی۔

”میں ممی سے بات کرواتا ہوں۔“ اسے خاموش دیکھ کر وہ سنجیدگی سے سیل فون جیب سے نکالتا ہوا بولا۔

”نہیں…. میں کیا بات کروں گی۔“ وہ گھبرا گئی۔

”تسلی کرلو اپنی۔“نہیں میری تسلی ہو گئی۔“ شرمگیں لہجے میں کہا گیا۔

”کیا…. کیا کہا ذرا پھر سے کہنا؟“ وہ ایسے مسرت سے چیخ اٹھا جیسے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا مل جائے۔

”آپ…. اپنے پیرنٹس کو بلوالیں۔“ وہ کہہ کر رکی نہیں کمرے سے باہر نکل گئی۔

عمر جبران کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونج اٹھا۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

GULABI RUT SURKH PHULON KI BY IQRA SAGHEER AHMAD

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *