HIJR E YARAAN BY HANIA MOMIN

وہ کالی چادر کو خود پہ مزید کس رہی تھی جو پہلے سے ہی اسکی گردن کے گرد ایسے لپیٹی ہوئی تھی جیسے ابھی سانس بند ہو جائے گا،
بب۔۔بھائی ۔۔۔ بھائی صاحب۔۔۔ اس نے پاس سے گزرتے ایک آدمی کو روکا، مم مم۔۔۔ مجھے اس پتے پر جانا ہے، کیا بتا سکتے کس طرف ہے؟؟ بہن جی۔۔۔۔ پہلے تو وہ لال لال آنکھیں دیکھ کر ڈر گئی اور پھر اس بندے کی ایسی آواز جیسے ویرانے میں الو رو رہے ہوں۔۔۔
وہ سامنے محلہ جاؤ وہاں۔۔۔
اس نے سڑک کی دوسری جانب اشارہ کیا درمیان میں بہت بڑی باؤنڈری لائن تھی، جس پر لمبے لمبے سرے لگائے گئے تھے ۔۔۔ اس نے کراسنگ برج کی جانب دیکھا جو وہاں سے ایک میل کے فاصلے پر تھا وہ پہلے ہی ڈری ہوئی اور بھوکی تھی۔۔۔ چل چل کہ مہنگی سی چپل نے بھی پاؤں میں آبلے بنا دیئے تھے، جن پر شدید قسم کی جلن تھی،
اب اتنا فاصلہ شیطان کی آنت جیسا لگا۔۔۔ مگر قدم بڑھا دیئے کہ جانا تو ہے ہی ادھر، وہ پاؤں رکھتی کہیں اور پڑتا کہیں اور تھا، بھوک نے تمام اعضا کو ایک نقطےپر مرکوز کر دیا تھا۔۔۔۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

HIJR E YARAAN BY HANIA MOMIN

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *