MUHABBAT KI NAHI JATI BY RAMSHA HUSSAIN

وہ ہاتھ میں ٹیشو بوکس پکڑے یونی کی بیک سائیڈ آیا تو اُس کو اکیلے روتا پایا اور ایسا اُس نے پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔۔۔کجھ سوچ کر وہ اُس کے کجھ فاصلے پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔

یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟بجائے رونے کی وجہ پوچھنے کے وہ اُس کے یہاں بیٹھنے کی وجہ جاننے لگا۔۔۔۔۔

میری مرضی۔۔۔۔وہ سوں سوں کرتی بتانے لگی۔۔۔۔

آپ کو پتا ہونا چاہیے یہاں آپ کا اکیلا بیٹھنا سیف نہیں۔۔۔۔اُس نے گردن موڑ کر اُس کو دیکھ کر کہا جس کی ناک سرخ ہوگئ تھی۔۔۔۔۔۔۔

اندر سب مذاق اُڑا رہے ہیں۔۔۔۔اُس نے بلاآخر بتادیا

تو آپ اُن سے چُھپ کر بیٹھی ہیں۔۔۔وہ جیسے ساری بات سمجھ گیا

چُھپتی میں کسی کے باپ سے بھی نہیں۔۔۔۔وہ اُونچی آواز میں بولی۔۔۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

MUHABBAT KI NAHI JATI

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *