KARZAL BY ANAM SANA

***********
اندھیری خوفناک رات میں جہاں سڑک پر دور دور تک کوئی زی روح نظر نہیں آرہی تھی وہاں وہ نقاب پوش بے دھڑک اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا ۔اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا تسلی کر کے اس نے دیوار پر ہاتھ رکھا اور دیوار کو پھلانگ کر اندر چلا گیا اندر موجود لوگوں کی آوازیں آرہی تھی وہ آگے بڑھا ہی تھا کہ اس کو اپنے قدم روکنے پڑے کیونکہ سامنے ایک خونخوار کتا منہ کھولے کھڑا تھا مگر وہ نقاب پوش بھی پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا اپنی جیب سے نشے والا بسکٹ نکالا اور اس کے آگے ڈال دیا اور کچھ ہی پل لگے اس کو بیہوش ہونے میں کتے کے بیہوش ہوتے ہی وہ آگے بڑھا ایسے سامنے ایک کھڑکی نظر آئی تھوڑی سی کوشش سے کھڑکی کھل گئی وہ بنا آہٹ کئے اندر چلا گیا۔۔۔اندر بیٹھے لوگ اپنی موت سے بے خبر شراب نوشی میں مصروف تھے اس نے آس پاس دیکھا تو وہاں بہت بڑے بڑے ٹین تھے ٹین میں پانی جیسا مواد تھا جو اگلی نسل کو تباہ کرنے کے لیے تھا اس نے اپنی جیب سے ایک باکس نکالا اور اس کو آگ لگائی اور جس طرح آیا تھا اسی طرح واپس چلا گیا ۔۔۔کچھ پل لگے تھے کہ عمارت میں زور دار دھماکہ ہوا دھماکے کے فورا بعد آگ بھڑک
اٹھی ۔۔۔اندر سے لوگوں کی دل دہلا دینے والی چیخنے کی آوازیں آرہی تھی آگر وہاں کوئی اور موجود ہوتا تو ضرور ہارٹ اٹیک سے مر جاتا مگر وہاں کوئی اور وہ موجود تھا جس کے سینے میں دل نہیں پتھر تھا ۔۔اور کچھ ہی پل میں عمارت جل کر خاک ہو گئی ۔ اس نے اپنا موبائل نکالا اور
“mission successfull”
لکھ کر کسی نمبر پر سینڈ کر دیا

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

CLICK HERE TO DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *