QASAM SE YARA MAIN TUMHARA BY AYESHA ZULFIQAR

دروازہ بڑی زور سے دھڑکا تھا, اس نے بمشکل اپنی نیند بھری آنکھیں کھولیں, بخار کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آنکھوں کے پپوٹے بھی دکھ رہے تھے, پوری کوشش کے باوجود وہ ایک دم اٹھ نہ سکی, اس کے پہلو میں دائیں طرف لیٹی تین سالہ منسا مسلسل رو رہی تھی, بائیں طرف لیٹا چار سالہ ماہر بھی اٹھ گیا تھا اور مسلسل ریں ریں کر رہا تھا
دروازہ پھر سے دھڑ دھڑایا گیا تھا
“ساریہ… دروازہ کھولو, باہر نکلو” سہام کی غصے سے چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اس کے حواس جھنجھوڑے تھے, وہ ایک دم کمبل ہٹاتے ہوئے بستر سے اتری, مسلسل روتی ہوئی منسا کو گود میں اٹھایا اور دروازے کی طرف بڑھی, پورا بدن بخار میں پھنک رہا تھا, دو, تین قدم اٹھاتے ہی اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا, دھڑام سے فرش پر گری, قالین کی وجہ سے تھوڑی بچت ہو گئ تھی, منسا کا باجا اور اونچا ہو گیا, بمشکل اس نے دروازہ کھولا
“ساریہ یہ کوئی ٹائم ہے اٹھنے کا, پتہ بھی ہے تمہیں کہ میں نے آٹھ بجے ہاسپٹل پہنچنا ہوتا ہے, نہ کپڑے استری کئے ہوئے ہیں, نہ ناشتا بنایا ہے… ” سہام ایک دم اس پر برس پڑا, ساریہ نے دھیرے سے اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا تھا, ماہر بھی ریں ریں کرتا ہوا اس کی ٹانگوں سے آ کر چپک گیا تھا
“ساریہ یار پکڑو اسے… پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے اسے, اس کا پیمپر بھی چینج کروا دینا اور فیڈر بھی دے دینا, کمرہ بھی سمیٹ دینا پلیز… ” انشرہ نے انتہائی کوفت سے بلکتی ہوئی مروہ کو اس کی گود میں چڑھا دیا

ONLINE READ:

DRIVE DOWNLOAD LINK

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *