SHRARAT BY NABEELA AZIZ

دلہن کے ہاتھوں میں مہندی کیوں نہیں ہےامی؟”کسی بچی نے دلہن کو پر اشتیاق نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنی ماں سے سوال کیا اور جہاں اس کی بات پر اس کی ماں ٹھٹھکی وہیں دلہن کی بھی نظریں اپنے ہاتھو پر ٹھہری شفاف گلابی ہتھیلیاں ویران اور بے رونق…..
اس عورت سے کوئی جواب نا بن پڑا تو بچی کو ڈانٹ کر چپ کروا دیالیکن اس کے چپ کروانے سے کیا ہوسکتا تھا حقیقت ساری دنیا جان گئی تھی کچھ بھی چھپا ہوا نہیں تھا….
“نائمہ تم ایسا کرو دلہن کو اس کے بیڈ روم میں چھوڑ آؤ تھک گئی ہوگی” عارفہ بیگم نے اپنی دیورانی کی بیٹی کو اشارہ کیا وہ سمجھ گئی تھی اس لیے فوراً اٹھ کھڑی ہوئی
“آئیے بھابھی آپ کو اوپر بیڈ روم میں چھوڑ آؤ ں” نائمہ نے اس کا بازو تھامتے ہوئے سہارا دیا وہ بھی اس ماحول سے جلد از جلد نکلنا چاہتی تھی اس لیےکھڑی ہوگئی
” کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ؟” وہ اچانک ڈرائنگ روم کے دروازے سے اندر داخل ہوا نائمہ کے ساتھ دلہن کے قدم بھی تھم گئے سامنے وہ دیوار بنا کھڑا تھا
“دلہن رخصتی کے بعد کہاں جاتی ہے؟” نائمہ نے تایا زاد بھائی کو شرارت سے دیکھا
” عام دلہنیں تو رخصتی کے بعد اپنے شوہر کے بیڈروم میں ہی جاتی ہیں لیکن اگر دلہن خاص ہو اور جی دار ہو تو کہیں بھی جاسکتی ہے” وہ دلہن کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا
دلہن نے یک دم اس کو دیکھا اس کی آنکھوں سے شرارےنکل رہے تھے وہ انتہائی بے نیازی سے آنکھیں پھیر گیا….
“جائیے” وہ کہ کر سائیڈ ہوگیا

ONLINE READ:

PDDF DOWNLOAD LINK:

CLICK HERE TO DOWNLOAD

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *