WO AIK LAMHA MUHABBAT BY SUMAIRA SHAREEF TOOR

وہ گھٹنوں میی سر دبائے بے پناہ خوف آنکھوں میں لئے شدت سے رو رہی تھی۔
اس کا وجود ہولے ہولے لرز رہا تھا۔ نجانے کتنا وقت بیتا تھا۔ اس عقوبت خانے میں بند وہ رات دن کا تصور تک بھولے ہوئے تھی۔ اسے بیتے لمحوں اور گزرتے وقت کو یاد کرنے پر یوں لگ رہا تھا کہ گویا صدیاں بیت گئی ہوں
’’یا اللہ…‘‘ ہاتھ کی پشت سے چہرہ صاف کرتے وہ میٹرس سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ نجانے وہ کہاں تھی اور ادھر کیوں لائی گئی تھی۔ اس اندھیرے کمرے میں واحد ٹیوب تھی جو روشن تھی زمین پر بچھا ایک میٹرس تکیہ اور چادر کے علاوہ کمرے کے کونے میں لکڑی کی چھوٹی سی ٹیبل پر ایک جگ اور گلاس تھا۔ اس کے علاوہ کمرے میں باتھ روم تھا۔ کمرے میں کوئی کھڑکی تو ایک طرف، ایک چھوٹا سا روزن تک نہ تھا۔
شروع مںں تو وہ بہوش سی سوتی جاگتی کیفیت میں بے خبر ہی رہی تھی کہ وہ کہاں ہے اور کیوں ہے اور اب اسے ہوش میں آئے بھی کئی گھنٹے ہو چکے تھے۔ اس نے ایک دفعہ پھر ہاتھ مںے بندھی گھڑی دیکھی مگر وہاں وہی خوفناک حقیقت۔ درج تھی۔ دس تاریخ اور رات ایک کا ٹائم درج تھا اور جب وہ گھر سے ہاسپٹل کے لےنکلی تھی تو آٹھ تاریخ اور آٹھ بجے کا وقت تھا۔ یعنی یہاں آئے اس کی آج دوسری رات تھی۔
رونا دھونا ترک کر کےوہ ایک بار پھر دروازے کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی۔
’’ارے کوئی ہے؟ مجھے یہاں سے نکالو پلیز… مجھے نکالو… ورنہ میرا دم گھٹ جائے گا۔ میں مر جائوں گی۔‘‘
’’ہوش میں آنے کے بعد وہ یہ عمل کئی بار دوہرا چکی تھی کہ اب کی بار اسے اپنے ہاتھ شل ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔ جسم میں طاقت ختم ہوتی لگ رہی تھی وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی ناکام ٹھہری تھی۔
دروازے کے دوسری طرف اس کی آواز سن کر بھی جواب کوئی نہ تھا۔ وہ دروازے کے ساتھ پیشانی ٹکا کر سسک اُٹھی تھی۔
اسے رہ رہ کر اپنی ماں بیمار باپ معصوم بہن اور بھائیوں کے چہرے یاد آ رہے تھے۔ نجانے ان لوگوں کا کیا حال تھا۔ پتا نہیں انہوں کسی نے بتایا بھی تھا کہ نہیں… ایک بار پھر اس نے گھٹنوں میں سر دے لیاتھا۔ نجانے کتنا وقت بیتا تھا کہ اس کی حسیات ایک دم الرٹ ہوئی تھیں
’’ٹک… ٹک…‘‘

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

CLICK HERE TO DOWNLOAD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *