TERI ADAT HO GAI BY ANA ILYAS

ميں نے کسی سے کوئ محبت نہيں کی تھی۔ حماقت تھی۔ ايک ردعمل تھا۔۔ اور کچھ نہيں” وہ بھاری آواز ميں چلا کر بولی۔
“اگر ساری زندگی اسی بات کا طعنہ دينا تھا تو پھر رخصتی کيوں کروائ” ناراض نظروں نے آحل کے دل تک کو چھو ليا۔
ہولے سے مسکرايا۔
” اعتراف سننا تھا۔۔” اسکی بات پر وہ آنکھوں ميں حيرت سمو ۓ اسے ديکھتی رہی ‎ ۔
“ميری منکوحہ کسی کی محبت کا اعتراف تودھڑلے سے کرے۔ چاہے وہ محبت وقتی ہو۔۔مگر ميری محبت کو مجھ سے چھپا کر رکھے يہ تو ناانصافی ہوئ نا” مسکراہٹ دباۓ اسکی آنکھوں ميں جھانکا۔
“ميں يہ بھی جانتا ہوں کہ جس دن آپ نے معافی مانگی اس دن بھی ميری محبت ان آنکھوں ميں جھلملائ تھی” اسکی آنکھوں کو غور سے ديکھتے آہستہ سے اسے خود سے لگايا۔
“ان فيکٹ شہزاد سے بات کرنے پر ميں نے آپکو اسی لئے اکسايا تھا کہ ميں جانتا تھا کہ وہ لڑکا محبت کے معاملے ميں کمزور ہے۔ وہ صرف ظاہری شخصيت پر فدا ہے۔ اس ايٹم بم کو اندر سے وہ نہيں جانتا”
اسکی آخری باپ پر مضراب غصے سے تلملائ۔
“اور ويسے بھی حقيقت پسند ہونا ہر ايک کے بس کی بات نہيں تھی۔
آپکی پہلی غلطی تھی اسی لئے ميں نے مارجن ديا۔ اور آپکو چھوڑنے والا فيصلہ جو ميں کبھی مر کر بھی نہيں کرسکتا تھا۔اور جسے ميں کسی قيمت پر اپنی زبان پر بھی نہيں لا سکتا۔ صرف آپ کو دنيا کی اصل شکل دکھانے کے لئے کہا۔” آحل کی بات پر پھر سے آنکھوں سے آنسو برسے جنہيں اب کی بار آحل کی پوروں نے بہت محبت سےچنا۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

download here

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *