Desire to Attain: Ana Ilyas’ ‘Use Paane Ki Chah

سی ڈی دو” علی نے مڑ کر رومان سے وہ سی ڈی لی۔ جو ابيشہ پہلے اسے پکڑا چکی تھی۔
دوپٹہ اور بريسليٹ ابيشہ کے بيگ ميں ہی موجود تھا۔
اور وہ سی ڈی بھی جو اس نے ٹی وی کے اس چينل سے لی تھی جنہوں نے اس دن ان کے فيرويل کی کوريج کی تھی۔
آدھی سے زيادہ ويڈيوز وہ ديکھ چکے تھے۔ بار بار روک کر تمام لڑکيوں کے دوپٹوں کو ديکھتے مگر کہيں کوئ ايسی لڑکی نظر نہ آئ جس نے وہ دوپٹہ ليا ہوا تھا۔
“اور اگر وہ ہميں نہ ملی” ايک کلپ پر روک کر علی نے ابيشہ اور رومان کی جانب ديکھ کر کہا۔
“ملے گی ضرور ملے گی” ابيشہ مايوسی کی کوئ بات سوچنا بھی نہيں چاہتی تھی۔
مسلسل تين گھنٹے ہوچکے تھے مگر کسی کلپ ميں وہ لڑکی موجود نہيں تھی۔
“آپ والی سی ڈی لگا کر ديکھيں” رومان نے ابيشہ سے کہا۔
“پہلے اس کو پورا ديکھ ليں۔ پھر وہ بھی لگاتے ہيں” ابيشہ ہار ماننے کو تيار نہ تھی۔
علی نے دوبارہ سے کلپ چلايا ابھی پانچ منٹ نہيں گزرے تھے کہ يکدم ابيشہ چلائ۔
“روکيں يہيں پر” اسکے کہتے ساتھ ہی علی کی انگليوں نے حرکت کی اور ويڈيو پوز کردی۔ چار لڑکيوں ميں گھری وہ مسکراتی ہوئ لڑکی بلاشبہ وہی تھی۔ وہی دوپٹہ اور ہاتھ سے بالوں کو درست کرتے وہی بريسليٹ اس نے پہن رکھا تھا جو اس وقت ابيشہ کے سامنے موجود ٹيبل پر پڑا تھا۔
رومان اور ابيشہ کے چہروں پر خوشی کی ايک چمک تھی سواۓ علی کے۔
“شکر اللہ کا” رومان اسی لمحے سجدے ميں گر گيا۔ چھ مہينوں سے وہ لگا تار لوگوں سے ويڈيوز ليتا پھر رہا تھا۔ اور آج آخر کار وہ لڑکی انہيں مل ہی گئ۔
“مائ گاڈ يہ۔۔۔۔يہ تو نتاشا ہے” علی کے منہ سے نکلنے والے الفاظ ان دونوں کو ششدر کر گۓ۔ کيا علی اس لڑکی کو جانتا تھا۔
“نتاشا کون۔ تم جانتے ہو اسے” رومان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔
“بدقسمتی سے يہ ميری کزن بھی ہے اور ميرے ايک کزن کی منگيتر بھی” اس کے انکشاف پر وہ دونوں ہکا بکا رہ گۓ۔
“تو يہ کہاں ہے اب کون سے ڈيپارٹمنٹ کی ہے” ابيشہ نے پے درپے سوال کئيے۔
“يہ انگلش ڈيپارٹمنٹ کی تھی اور ہمارے ساتھ ہی اس کا فائنل ائير بھی ختم ہوگيا تھا

 

PDF DOWNLOAD LINK:

اسے پانے کی چاہ PDF

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *