CHAND MERI DASTRAS MAIN BY ANA ILYAS

ديکھيں ۔۔۔۔آپ کا اور ميرا کسی بھی طرح ميچ نہيں بنتا۔۔ضروری نہيں کہ ماضی ميں بھائ نے جو کچھ کيا اسکا کفارہ ادا کرنے کے لئے ہميں قربانی کا بکرا بنايا جاۓ” واہب دونوں ہاتھ ٹيبل پر رکھے۔ انگلياں آپس ميں پھنساۓ سوچ سوچ کر بول رہا تھا۔
گاہے بگاہے نگاہ اٹھا کر اسکے بے پرواہ چہرے پر بھی ڈال ديتا تھا۔
“پھر ” واہب کے رکتے ہی وہ ايسے بولی جيسے وہ اسے کوئ خبر يا کہانی سنا رہا ہے۔ واہب نے اب کی بار تنی ہوئ نظريں اسکے ہو کيرز جيسے ايٹی ٹيوڈ پر ڈاليں۔
“پھر کا کيا مطلب ہے۔” وہ کڑک لہجے ميں بولا۔
“يہ سب آپکے خيالات ہيں۔ جبکہ ميرے خيالات بالکل مختلف ہيں۔۔ميرے لئے ميرے ماں باپ کی زبان اور مرضی سے بڑھ کر کچھ نہيں” راديا نے قطيعت بھرے لہجے ميں کہہ کر اسکا انکار کرنے کا ہر جواز رد کيا۔ اور اپنے لہجے سے باور کروايا کہ وہ اسکا ساتھ نہيں دے گی۔
“مجھے اس سے کوئ مطلب نہيں کہ وہ کس سے ميری شادی کرواتے ہيں۔ وہ چاہے آپ ہوں يا کوئ اور۔۔ آپ کو کوئ مسئلہ ہے تو اپنے پيرنٹس کو انکار کريں۔ مجھے يہ سب سنانے کا کوئ فائدہ نہيں ہے” وہ پھر سے بے لچک لہجے ميں اسکی آخری اميد کو بھی روندتے ہوۓ بولی۔
“آپ بڑی ہيں مجھ سے ايک دو نہيں پورے پانچ سال۔۔سوچيں لوگ کيا کہيں گے۔۔” واہب نے اسے اموشنلی بليک ميل کرنا چاہا۔
اسی اثناء ميں ويٹر انکے قريب مينيو کارڈ رکھنے آيا۔
“سنو بھائ” راديا نے يکدم اس ويٹر کو مخاطب کيا۔
“جی ميم” وہ مودب ہو کر کھڑا ہوگيا۔
“ہم دونوں ميں سے تمہيں کون بڑا اور کون چھوٹا لگتا ہے” جس سنجيدگی سے اس نے سوال کيا ويٹر تو ويٹر واہب اسکی جرات پر بھونچکا رہ گيا۔
“کيا بکواس ہےيہ” واہب يکدم آہستہ آواز ميں غرايا۔
“نہيں پوچھنے ميں حرج نہيں” وہ کندھے اچکا کر بڑے آرام سے بولی۔
“جاؤ يار آپ۔۔۔ ان کا دماغ ٹھکانے پر نہيں ہے” واہب نے دانت کچکچکا کر اسکی معصوم صورت کو ديکھا۔
ويٹر بيچارہ پريشان صورت لئے واپس چلا گيا۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

DOWNLOAD HERE

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *