MERE HAAKIM BY UMEMA MUKARRAM

” میرے لیے نہیں لائے؟”
عرش کو دیکھتے وہ دکھی دل سے پوچھ بیٹھی۔
عرش کو اس پر بے اختیار پیار بھی آیا اور ہنسی بھی۔
” تمہارے پاس تو ہے نا ۔”
انجان بنتے کہا۔
” وہ بٹن والا ہے۔”
فورا جواب دیا۔
” پہلے ٹچ والا دلایا تھا اسکا کیا ہوا ؟”
عرش نے آئبرو اچکائی۔
” وہ غلطی سے توڑ دیا تھا۔ ”
اس بار اسنے جھوٹ نہیں کہا۔
عرش نے اسے بغور دیکھا وہ اسے ہی امید سے دیکھ رہی تھی جیسے وہ ابھی جیب سے موبائل نکال کر اسکو دے دیگا۔
” غلطی سے آپ کے پاس پھر رونگ نمبر آئینگے اور پھر غلطی سے آپ بار بار موبائل توڑینگی۔
پھر ایک وقت آئیگا جب ہم چاروں سڑک کنارے کٹورا لیے کھڑے ہونگے ممکن ہے کہ وہ بھی نا ہو جھولی پھیلانا پڑے۔ ”
عرش کے سنجیدگی سے کہنے پر رائمہ آئمہ ہنس پڑی جبکہ ایک لمحے بعد خنساء کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے رائمہ آئمہ اسکے اچانک رونے پر ہنسی روکے اسے دیکھنے لگی جبکہ عرش نے گہری سانس لی۔
” مزاق کررہا تھا خنساء تمہارے لیے اس لیے نہیں لایا کے تم سے پوچھ کے لاؤنگا جو تمہیں پسند ہوا وہ لاؤنگا۔”
عرش نے پچکارا۔
” مجھے نہیں چاہیے اب۔”
روتے ہوئے ناراضگی کا اظہار ہوا۔
عرچ پھرچونکا ۔۔ایک ساتھ جھٹکے پر جھٹکا مل رہا تھا پہلے بحث لڑائی اب نخرے بھی۔
” سچ میں مزاق کررہا تھا خنساء پرامس جو موبائل بولوگی وہ ملیگا بس پلیز جیب کا خیال کرنا تھوڑا۔ ”
آخر میں چھیڑا۔
خنساء نے پہلے تینوں کو باری باری دیکھا پھر کچھ سوچتے ہوئے بولی۔ لیکن جب بولی تو ایسا بولی کے عرش اپنے بولنے پر پچھتایا۔
” مجھے آپکا والا موبائل چاہیے۔”
عرش کا موبائل تین لاکھ سے اوپر کا تھا اور تھا بھی دو سال پرانا اور اب وہ ماڈل بھی ایک سال پہلے ہی آنا بند ہوچکا تھا۔
” خنساء یہ موبائل دو سال پرانا ہے اور اب آنا بند ہوچکا ہے تم کوئی دوسرا بتادو۔ ”
” آپ نے کہا تھا جو میں مانگونگی وہ ملے گا۔ ”
وہ ضدی ہوئی۔
” لیکن یہ اب نہیں ملتا میں اس سے بھی اچھا لاکر دونگا کل۔”
جان چھڑانی چاہی۔
” پر مجھے یہی چاہیے۔ ”
” اس کے اندر میری فائلز ہیں امپورٹنٹ ڈیٹا ہے میں یہ نہیں دے سکتا۔ ”
” مجھے نہیں چاہیے پھر کوئی بھی موبائل اسکے علاوہ۔ ”
اسکی آنکھوں میں پھر نمی اتری ۔ عرش لب بھینچ گیا کچھ دیر سوچنے کے بعد اسنے اپنا موبائل دینے کی ہامی بھر دی۔
خنساء فوراً مسکرائی۔

ONLINE READ:

PDF DOWNLOAD LINK:

MERE HAAKIM COMPLETE

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *