NovelsClubb

"Club Of Quality Content!"

Qalb e salam By Rushna Aziz urdu Novel

Qalb e salam By Rushna Aziz urdu Novel

Gener: Psychological Fiction, Psychological Thriller, Spiritual Fiction, Romantic Drama

Description:
یہ کہانی محض ایک محبت کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے ٹوٹے ہوئے ذہن اور زخمی روح کا سفر ہے، جو ماضی کے اندھیروں میں قید ہو کر اپنی پہچان کھو بیٹھا تھا۔
یہ کہانی ہے
زخموں کی…
نفسیاتی جنگ کی…
روح کی تڑپ کی…
اور اس محبت کی…
جو صرف دل نہیں، انسان کو بھی بدل دیتی ہے۔
Instagram I’d:@azizrashna
Promotion scene:
کیا میں آپ کے یہاں آنے کی وجہ جان سکتی ہوں ؟ ”
رسیور رکھ کر اس نے پیشہ ورانہ انداز میں سوال کیا۔
“ایک پیشنٹ ہے میرے پاس جو پچھلے دو سالوں سے میرے
اسا ئلم میں زیر علاج ہے ۔ اس کی تمام تر ڈیٹیلز اس کی فائل میں درج ہیں جو نیکسٹ ٹائم میں لے کر آؤں گا۔ آپ ایک بار پیشنٹ سے مل لیں اور اس کی فائل اچھے سے پڑھ لیں پھر مجھے جواب دیں کہ کیا آپ یہ کیس ہینڈل کر سکتی ہیں یا نہیں ؟”انہوں نے رسمی انداز میں اپنے آنے کی وجہ بھی بیان کی ۔
“تو گویا اب آپ کو یقین ہے کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں اور اب آپ چاہتے ہیں کہ آپ ریٹائر ہو جائیں۔”ژاویہ نے احترام ملحوظ خاطر رکھا ۔
“بوڑھا ضرور ہو گیا ہوں لیکن میرے تجربات بوڑھے نہیں ہوئے۔ اور تجربات تب بوڑھے ہوتے ہیں جبہ آپکا دماغ کام کرنا بند کر دے۔ ” ڈاکٹر رابرٹ نے اپنے ازلی انداز میں جواب دیا ۔
” تو پھر یہ کیس ہینڈل کرنے میں آپ نا کام کیوں رہے؟”
“آپ سے یہ کس نے کہا کہ میں ناکام ہو گیا ہوں ؟”
وہ سن کر چند لمحے انہیں دیکھتے رہی اور ان کی بات سمجھنے کی کوشش کی۔
“یہ میری لائف کا ناممکن کیس اس لیئے ہیں کہ یہ پیشنٹ ٹھیک ہی نہیں ہونا چاہتا ۔ اور جو خود ہی ٹھیک ہونا نہ چاہتا ہو تو ایسے مریض پر میں اپنا مزید وقت برباد نہیں کرنا چاہتا۔”پیون کافی رکھ کر جا چکا تھا ۔ ژاویہ نے مگ ان کے سامنے رکھا۔ اور اپنا فلحال سائیڈ پر ۔ژاویہ کو اب جھنجھلاہٹ ہو رہی تھی۔
“تو آپ چاہتے ہیں کہ ایسے کیس پر میں اپنا وقت برباد کروں؟”
“جی ہاں! اور آپ اپنا وقت اب خوشی سے برباد کرنا چاہیں گی کیونکہ آپ کے سامنے مستبقل میں ایک اسائلم اپنی نگاہوں کے سامنے نظر آ رہا ہے اور میرا نہیں خیال کہ آپ یہ موقع ضائع جانے دیں گی ۔ “اب وہ کچھ بول نہیں پائی ۔ واقعی ایسے موقع کے انتظار میں وہ پانچ سال سے تھی اور اب موقع خود اس کے پاس چل کر آگیا تھا تو وہ کیسے کفران نعمت کر سکتی تھی۔ ڈاکٹر رابرٹ اپنی بات کہہ کر کھڑے ہو گئے۔ کافی کا مگ ان چھوا رکھا رہا ۔
“اور آپکی یہ کافی ادھار ہے ڈاکٹر! جس دن آپ اس مریض کو صحت یاب کر کے میرے پاس لائیں گی اس دن میں یہ کافی پیوں گا ۔ ہیو اے نائس ڈے ۔” پانچ سال پہلے کہے اس کے الفاظ اسی کے انداز میں کہہ کر دروازہ دھکیل کر باہر نکل گئے۔

Click On this Link Below To Download novel:

TAP HERE TO DOWNLOAD EPISODE 01

📱 Download Our Android App

Read all novels offline, get notifications, and enjoy a better reading experience!

Download Now Our Android App

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *